بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مدرسہ کے پانی سے خانقاہ کے برتن دھونا

سوال

 ہمارا ایک مدرسہ ہے جس میں طلباء بھی مقیم ہیں، اب مسئلہ یہ ہے کہ اس مدرسے میں ہفتہ میں ایک دن ذکر کی مجلس لگتی ہے جس میں کھانا بھی دیا جاتا ہے، اس کھانے کا مدرسے کے فنڈ کے علاوہ دوسرا فنڈ ہے، برتن بھی الگ ہیں، مگر ان برتنوں کے دھونے کےلیے مدرسے کا پانی استعمال کیا جاتا ہے تو کیا اس پانی کو استعمال کرنا جائز ہے؟

جواب

 مدرسے کے پانی سے مذکورہ برتن دھونے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وحمل ‌ماء ‌السقاية إلى أهله إن كان مأذونا للحمل يجوز وإلا فلا كذا في الوجيز للكردري في المتفرقات."

(كتاب الكراهية، الباب الحادي عشر في الكراهة في الأكل،وما يتصل به، 5/ 341، ط: رشيدية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144401101907
تاریخ26-08-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں