بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسافر پر جمعہ فرض نہیں ہے

سوال

مسافر پر جمعہ کی نماز فرض ہے یا نہیں ؟

جواب

جمعہ کی نماز فرض ہونے کے لیے اقامت شرط ہے لہذا مسافر پر جمعہ کی نماز فرض نہیں ہے البتہ اگر وہ شہر میں ہو تو اس کے لیے جمعہ پڑھنا افضل ہے۔

فتاوی شامی میں ہے :

"في الدر : (وشرط لافتراضها) تسعة تختص بها (إقامة بمصر)

في الرد: (قوله: إقامة) خرج به المسافر."

(كتاب الصلاة، باب الجمعة، مطلب في شروط وجوب الجمعة، ج2، ص153، ط : سعيد)

و فیہ :

"(قوله: إن اختار العزيمة) أي صلاة الجمعة؛ لأنه رخص له في تركها إلى الظهر فصارت الظهر في حقه رخصة، والجمعة عزيمة كالفطر للمسافر هو رخصة له والصوم عزيمة في حقه لأنه أشق فافهم."

(كتاب الصلاة، باب الجمعة، ج2، ص155، ط : سعيد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144401101877
تاریخ26-08-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں