بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کھاتے ہوئے خاموش رہنے کا التزام کرنا مجوس کا طریقہ ہے

سوال

کیا کھانا کھاتے وقت خاموش رہنا کسی آگ کی پرستش کرنے والوں کے مترادف ہے؟

جواب

مجوس (آگ کی عبادت کرنے والے) خاموش رہنے کا روزہ رکھتے ہیں جس میں کھانے اور گفتگو کرنے سے رکنے کو عبادت سمجھتے ہیں؛ شرعی اصطلاح میں اسے ’صوم الصمت‘ کہتے ہیں۔ چنانچہ کھانا کھاتے ہوئے خاموش رہنے کا التزام کرنا   مجوسیوں سے مشابہت ہے لہٰذا اس سے اجتناب کرنا چاہیے،  کھانے کھاتے ہوئے اچھی باتوں کے تذکرے،  مثلاً:  نیک لوگوں کی حکایات وغیرہ بہتر ہے۔ البتہ اگر کوئی کھاتے وقت خاموش رہنے کو نہ ضروری سمجھے، نہ اسے نیکی سمجھے،  اور بات کرنے کا مناسب موقع نہ ہونے کی وجہ سے خاموش رہے تو  اس میں حرج نہیں ہے۔ 

منحة السلوك  میں ہے:

"(ويكره صوم الصمت، وهو أن لا يتكلم في الصوم) لأن صوم الصمت من فعل المجوس لعنهم الله.وقال الإمام حميد الدين الضرير: إنما يكره الصمت إذا اعتقد قربة، أما إذا لم يعتقد قربة: فلا يكره، لقوله عليه السلام: "من صمت نجا".

(كتاب الصوم، ص278،  وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية - قطر)

فتاوی شامی میں ہے :

"ويكره السكوت حالة الأكل؛ لأنه تشبه بالمجوس، و يتكلم بالمعروف".

(كتاب الحظر والإباحة، ج6، ص340، ط : سعيد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144401101876
تاریخ26-08-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں