بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا شمال کی طرف پیر کر کے سو سکتے ہیں؟

سوال

کیا شمال کی طرف پیر کر کے سو سکتے ہیں؟

جواب

سمت قبلہ کی طرف پیر کرکے سونا منع ہے ، لہذا جن علاقوں میں سمت قبلہ شمال کی جانب نہیں ان علاقوں میں شمال کی طرف پیر کرکے سو سکتے ہیں، شرعاً اس میں حرج نہیں۔

الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:

"(ويكره) تحريما (استقبال القبلة بالفرج) ولو (في الخلاء) بالمد: بيت التغوط، وكذا استدبارها (في الأصح كما كره) لبالغ (إمساك صبي) ليبول (نحوها، و) كما كره (مد رجليه في نوم أو غيره إليها) أي: عمدا؛ لأنه إساءة أدب".

وفي رد المحتار:) "(قوله مد رجليه) أو رجل واحدة ومثل البالغ الصبي في الحكم المذكور ط (قوله أي: عمدا) أي: من غير عذر، أما بالعذر أو السهو فلا،  ط. (قوله: لأنه إساءة أدب)، أفاد أن الكراهة تنزيهية ط، لكن قدمنا عن الرحمتي في باب الاستنجاء أنه سيأتي أنه بمد الرجل إليها ترد شهادته. قال: وهذا يقتضي التحريم فليحرر" .

(الدر المختار مع رد المحتار: كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، مطلب في أحكام المسجد (1/ 655)، ط. سعيد)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144401101874
تاریخ26-08-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں