بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ارحا نور نام رکھنا کیسا ہے ؟

سوال

"ارحاء نور" نام رکھنا کیسا ہے ؟ (الف کے زبر کے ساتھ)

جواب

"ارحا نور" میں چوں کہ "اَرحا" (الف کے زبر کے ساتھ) عربی میں جمع کے طور پر مستعمل ہے ،اس کی واحد  " رَحیٰ" ہے، جس کے معنی چکی اور داڑھ کے ہیں، نیز اس کے اندر کسی چیز کو گھمانے کا معنی بھی ہے،  نام رکھنے کے لیے یہ لفظ مناسب نہیں،  بہتر ہے کہ صحابیات کے ناموں میں سے کوئی نام رکھ لیں۔

المغرب فی ترتیب المعرب میں ہے:

"(‌الرحى) ‌مؤنث تثنيتها رحيان والجمع أرحاء وأرح وأنكر أبو حاتم الأرحية وقوله خلا الرحى أي وضع الرحى ويستعار الأرحاء للأضراس وهي اثنا عشر".

(المغرب في ترتيب المعرب، ص:186، ط: دار الكتاب العربي)

المعجم الوسیط میں ہے:

"(الرحا والرحى) الأداة التي يطحن بها وهي حجران مستديران يوضع أحدهما على الآخر ويدار الأعلى على قطب (ج) أرح وأرحاء ورحي وأرحية والصدر ومن الظفر ما حوله والضرس (ج) ‌أرحاء ورحى الحرب حومتها ويقال دارت رحى الحرب نشبت ودارت عليه".

(المعجم الوسيط، ج:1 / ص:335، ط: دار الدعوة)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144401101840
تاریخ25-08-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں