بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بارش کی وجہ سے کھل جانے والی قبر پر دوسری قبر کی مٹی ڈالنا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ حالیہ بارشوں کے سبب ایک قبرستان میں کچھ قبریں کھل گئیں، تو کیا دوسری قبور کی مٹی لے کر ان قبروں کو بند کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں بارش کے سبب کھل جانے والی قبروں پر قبرستان میں موجود دیگر قبروں سے مٹی لے کر ڈالنا صحیح نہیں، اس لئے کہ دوسری قبور کی مٹی لینے کی صورت میں ان قبروں کے بھی کھل جانے کا اندیشہ ہے، لہذا کھلی ہوئی قبروں پر کسی اور جگہ سے مٹی لا کر ڈال  دیں، قبرستان میں موجود دیگر قبروں سے مٹی لے کر نہ  ڈالیں یا قبرستان میں جس جگہ پر قبر نہیں ہے وہاں سے مٹی لاکر  ڈالیں۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإذا ‌خربت ‌القبور فلا بأس بتطيينها."

(كتاب الصلاة، الباب الحادي والعشرون في الجنائز، الفصل السادس في القبر والدفن والنقل من مكان إلى آخر: 1/ 166، ط: ماجدية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144401101799
تاریخ25-08-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں