بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بلا ضرورت شدیدہ غیر محارم سے بات کرنا جائز نہیں ہے

سوال

کیا شادی شدہ عورت یا مرد کسی غیر محرم مرد یا عورت سے روز گھنٹوں موبائل پر بات یا چیٹنگ کر سکتے ہیں؟ اگر ایک دوسرے بھائی بہن ہی سمجھتے ہو اور اگر فرينڈشپ کا نام دیتے ہوں  تو کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ  بلا ضرورت  غیرمحارم  سے بات چیت کرنا ناجائز ہے، اگر مجبوراً کبھی کسی غیر محرم  سے بات چیت کرنے کی ضرورت پیش آجائے تو سخت لہجہ اور آواز میں بات کرنی چاہیے، جیساکہ قرآنِ پاک  (سورہ احزاب) میں ازواجِ مطہرات  رضی اللہ عنہن کو  (امہات المؤمنین ہونے کےباجود) ہدایت کی گئی کہ اگر کسی امتی سے بات چیت کی نوبت آجائے تو نرم گفتگو نہ کریں؛ مبادا اس شخص کے دل میں کوئی طمع نہ پیدا ہوجائے جو دل کا مریض ہو، بلکہ صاف اور دوٹوک بات کہیں۔

صورتِ مسئولہ میں غیر محارم مرد  کا غیر محارم عورت، اور غیر محارم عورت کا غیر محارم سے گھنٹوں بات کرنا  یہ کوئی مجبوری نہیں ہے، لہذا غیر محار م خواہ اسے کچھ بھی نام  دیا جائے فون پر بات  کرنا جائز نہیں ہے۔ 

فتاوی شامی میں ہے:

''فإذا نجيز الكلام مع النساء للأجانب ومحاورتهن عند الحاجة إلى ذلك، ولا نجيز لهن رفع أصواتهن ولا تمطيطها ولا تليينها وتقطيعها لما في ذلك من استمالة الرجال إليهن وتحريك الشهوات منهم، ومن هذا لم يجز أن تؤذن المرأة. اهـ. ''.

(کتاب الصلاۃ، مطلب في ستر العورة،1/ 406، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144401101792
تاریخ25-08-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں