بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کو دس دفعہ طلاق اگر آپ مجھے کتے کی نظر سے دیکھتے ہیں

سوال

لڑائی کے دوران والد نے اپنے بیٹے سے کہا کہ تم کتے ہو، اس پر بیٹے نے کہا کہ " پہ ما بہ خزہ لس پیرا طلاقہ ئی ،تہ ماتہ دا اولاد پہ نظر نہ گورے، دہ اسپی پہ نظر راتہ گورے" ، (یعنی میری بیوی کو دس دفعہ طلاق ہو ، آپ مجھے اولاد کی نظر سے نہیں دیکھتے، کتے کی نظر سے دیکھتے ہیں)، والد صاحب کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے اور اب بھی بھی میں نے اس سے کہا کہ جب آپ میری جائز بات کو نہیں مانتے تو میں تمہیں کتے سے،  بلکہ اس سے بھی بدتر  سمجھتا ہوں،  اب اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں بیٹے کا اپنے والد کو یہ کہنا " میری بیوی کو دس دفعہ طلاق ہو  آپ مجھے اولاد کی نظر سے نہیں دیکھتے، کتے کی نظر سے دیکھتے ہیں"  تو مذکورہ جملہ کہنے سے بیٹے کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوچکی ہے، نکاح ختم ہوچکا ہے، اب ساتھ رہنا جائز نہیں ہے، بیٹے کی مطلّقہ عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے کہیں اور نکاح کرسکتی ہے۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"وإن كان الطلاق ثلاثًا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجًا غيره نكاحًا صحيحًا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها، كذا في الهداية".

(کتاب الطلاق، الباب الثالث، ج:3، ص: 473، ط: مکتبہ رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144401101770
تاریخ25-08-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں