بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حالتِ حمل میں بیوی سے ہم بستری کرنا

سوال

حالت حمل میں اپنی بیوی سے جماع کرنا کیسا ہے، جب کہ حمل چھ ماہ کا ہو؟

جواب

حالتِ حمل میں کسی بھی وقت بیوی سے ہم بستری (جماع) کرنا جائز ہے، شرعی طور پر اس میں کوئی قباحت نہیں ہے، البتہ اگر کوئی  ماہر طبیب یا ڈاکٹر  کسی عذر کی بنا پر احتیاط کا مشورہ دے تو اس کی بات پر عمل کرنا چاہیے۔

 "فتاوی شامی" میں ہے:

"لئلا يسقي ماء ه زرع غيره؛ إذ الشعر ينبت منه.
(قوله: إذ الشعر ينبت منه) المراد ازدياد نبات الشعر، لا أصل نباته، ولذا قال في التبيين والكافي : لأن به يزداد سمعه وبصره حدةً كما جاء في الخبر.اهـ.
وهذه حكمته، وإلا فالمراد المنع من الوطء ؛ لما في الفتح قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لايحل لامرئ يؤمن بالله واليوم الآخر أن يسقي ماء ه زرع غيره». يعني إتيان الحبلى. رواه أبو داود والترمذي وقال:حديث حسن. اهـ. شرنبلالية."

(3/ 49، كتاب النكاح، ط:سعيد)

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144401101704
تاریخ24-08-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں