بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جعلی سرٹیفیکیٹ بناکر نوکری کرنے کا حکم

سوال

جعلی سرٹیفیکٹ بنا کر کمپنی میں لگنا کیسا ہے؟

جواب

جعلی سرٹیفیکیٹ بناکرکمپنی میں نوکری کرنا جھوٹ، دھوکہ دہی،خیانت کے مرتکب ہونے کی وجہ سے شرعاً جائزنہیں  ہے، لہذا اس طرح دھوکہ  دہی اورخیانت کرکے نوکری حاصل کرنے سے اجتناب کرنا لازم ہے، البتہ اگر جعلی سرٹیفیکیٹ بنانے والا نوکری کا اہل ہو،اور حسن وخوبی کےساتھ کمپنی کی مفوضہ ذمہ داریوں کو اداکرتاہو، اور مقررہ وقت پر جاکے ملازمت میں حاضر ہوکر کمپنی کے کاموں کو سرانجام دیتاہو،  تو اس نوکری کے بدلے حاصل ہونے والی تنخواہ  عاً جائز اور حلال ہو گی۔

الاختیار لتعلیل المختارمیں ہے:

"والأجرة تستحق باستيفاء المعقود عليه۔۔۔فإذا استوفى المعقود عليه استحق الأجرة عملا بالمساواة، وإذا اشترط التعجيل أو عجلها فقد رضي بإسقاط حقه في التأجيل فيسقط.قال: (وإذا تسلم العين المستأجرة فعليه الأجرة وإن لم ينتفع بها)."

(کتاب الاجارہ، فصل ماتستحق بہ الاجرۃ،ج:2، ص:55،ط:مطبعة الحلبي - القاهرة)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144401101589
تاریخ22-08-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں