بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بحر الدموع لابن الجوزی میں مذکور ایک روایت کی تحقیق

سوال

بحرُ الدموع لابن الجوزی -رحمه اللہ- میں ایک حدیث ہے : "إِذا کان ابنُ آدم في سیاق الموت بعثَ اللہ إِلیه خمسةً مِن الملائکة، أمّا الملكُ الأوّلُ فیأْتیه وروحُه في الحلقوم ... إلخ" 

کیا یہ حدیث سند کے اعتبار سے صحیح ہے؟ایک صاحب نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا  ہے کہ یہ موضوع ہے ۔

جواب

سوال میں  آپ نے جس حدیث کے متعلق دریافت کیا ہے، یہ  حديث حافظ  ابو الفرج ابن الجوزی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب"بحرُ الدموع"میں کسی سند کے بغیر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرکے ذکر کی ہے، اس کے علاوہ کسی اور کتاب میں ہمیں تلاش کے باوجود  يه حديث نہیں ملی ، لہذا جب تک کسی معتبر سند سے اس کاثبوت نہ مل جائےاس وقت تک اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرکے بیان کرنے سے احتراز کیا جائے۔

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144401101564
تاریخ22-08-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں