بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد میں وضو کے لیے مسجد کے اندر سے گزرنا

سوال

کیا فرماتے ہیں علماءِ  کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:حدیث شریف میں مسجد کو راہ گزر بنانے سے جومنع فرمایا ہےتو اس کی تشریح واضح فرما دیجیے۔  اور اگر کوئی شخص نماز  کے لیے مسجد جائے اور اس کا  وضو نہ ہو تو  وضوخانے میں جانے  کے لیے باہر سے آنے والے شخص کا مسجد سے گزر کر  وضو خانے میں جانا  جب کہ وضو خانے میں جانے  کے لیے مسجد سے باہر دوسرا راستہ بھی موجود ہو اور کوئی عذر بھی نہ ہو تو اس شخص کا مسجد سے گزر کر وضو خانے میں جانا یہ مسجد کو راہ گزر بنانے کی ممانعت میں داخل ہے یا نہیں؟

جواب

مسجد كو راه گزر كے طور پر استعمال كرنا مكروهِ  تحریمی ہے، البتہ صورتِ مسئولہ میں وضو خانہ میں وضو  کے لیے   جانے  کی صورت میں  مسجد کو استعمال کرنا مسجد کو راہ گزر بنانے کے حکم میں نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) كره تحريما (الوطء فوقه، والبول والتغوط) لأنه مسجد إلى عنان السماء (واتخاذه طريقا بغير عذر) وصرح في القنية بفسقه باعتياده."

(‌‌کتاب الصلاۃ، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، 1/ 656، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144401101531
تاریخ22-08-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں