بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

وطن اصلی کی تعریف

سوال

وطن اصلی کی تفصیل سے آگاہ فرمائیں؟

جواب

فقہا کرام نے وطنِ اصلی کی تعریف یہ کی ہے کہ انسان کی جائے ولادت یا جہاں اس نے شادی کرکے رہنے کی نیت کرلی یا کسی جگہ مستقل رہنے کی نیت کرلی ہو ، اور وہاں سے مستقل کوچ کرنے کا ارادہ نہ ہو،تو یہ جگہ وطنِ اصلی کہلاتی ہے۔  

البحرالرائق میں ہے :

"‌والوطن ‌الأصلي هو وطن الإنسان في بلدته أو بلدة أخرى اتخذها دارا وتوطن بها مع أهله وولده، وليس من قصده الارتحال عنها بل التعيش بها."

(البحرالرائق ،باب صلوة المسافر2 /147ط: دارالكتاب الاسلامي)

فتاوی شامی میں ہے:

’’( الوطن الأصلي ) هو موطن ولادته أو تأهله أو توطنه‘‘.

(رد المحتار علي الدر المختار ، كتا ب الصلاة ، مطلب في الوطن الأصلي ووطن الإقامة2/ 131 ط: سعيد)

المبسوط للسرخسی میں ہے:

’’وطن قرار ويسمى الوطن الأصلي وهو أنه إذا نشأ ببلدة أو تأهل بها توطن بها‘‘.

(المبسوط للسرخسي ، كتاب الصلاة ، باب صلاة المسافر 1/ 252 ط: دارالمعرفة)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144401101449
تاریخ20-08-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں