بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سرکاری زمین پر پودے وغیرہ لگانا

سوال

ایک شخص کو سرکاری ملازمت کے دوران ادارے کی طرف سے بڑا گھردینے کا وعدہ کرکے چھوٹا گھر دیا جاتا ہے لیکن اس کی تنخواہ میں کرایہ بصورتِ ٹیکس بڑے گھر کے کرایہ کے تناسب سے کاٹا جاتا ہے، اب کیا اس بات کو جواز بنا کر وہ شخص گھر کے باہر موجود خالی سرکاری زمین پر  تصرف مثلاً ( پودے اور درخت وغیرہ لگانا) کر سکتا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ ملازم شخص کا سرکاری زمین میں سرکار کی اجازت کے بغیر  مذکورہ کٹوتی کی وجہ سے پودے اور درخت وغیرہ لگاکر تصرف کرنا جائز نہیں، باقی اگر ٹیکس زیادہ کاٹ رہے ہیں تو اس کے بارے میں قانونی کارروائی کرے۔

شرح معاني الآثار ميں هے:

"عن رافع بن خديج أنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌من ‌زرع ‌زرعا في أرض قوم بغير إذنهم فليس له من الزرع شيء ويرد عليه نفقته في ذلك."

(کتاب الزارعۃ والمساقاۃ، باب من زرع فی ارض قوم بغیر اذنہم کیف حکہم فی ذلک وما روی عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی ذلک،  ج:4،  ص:117، ط:عالم الکتب)

فتاوی شامی میں ہے:

"هـ لا يجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته."

(کتاب الغصب ،مطلب فیما یجوز من التصرف  بمال الغیر بدون اذن صریح،  ج:6، ص:200، ط:سعید)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

"سوال:گورنمنٹ نے چک بندی کے زمانہ میں کچھ راستے چھوڑے ان کی جوتائی وغیرہ کرکے غلہ حاصل کرنا کیسا ہے؟ اس کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامدا ومصلیاً:جو زمین کسان کی نہیں ، نہ کوئی معاملہ اجارہ یا بٹائی کا مالک سے کیا ہو، اس کو جوتنا اور غلہ حاصل کرنا اس کے لیے جائز نہیں ، وہ گورنمنٹ کی ملک ہے تو اس کی اجازت سے درست ہے۔"

(کتاب المزارعۃ، سرکاری زمین میں کھیتی کرنا، ج:17، ص:195، ط:ادارہ الفاروق کراچی)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144401101395
تاریخ20-08-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں