بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مدرس کی تنخواہ زکوٰۃ کی مد سے دینا کاحکم

سوال

میری ایک بہن ہے ،اس کا کوئی سرپرست نہیں ہے،اور نہ ان کا کوئی کمانے والا ہے،اس نے اپنے گھر میں ایک مدرسہ کھولا ہے،اور میرے پاس زکوۃ کی رقم ہےاور میری بہن صاحب نصاب بھی ہے،میں ان کو زکوۃ کی رقم سے کسی طرح وظیفہ دوں ،کیا تنخواہ ،بجلی کے کی مد میں زکوۃ کی رقم دی جاسکتی ہے؟اس کا کیا طریقہ کار ہوگا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کی بہن صاحبِ نصاحب ہے تو سائل کے لیے جائز نہیں ہےکہ وہ اسے زکوٰۃ کی رقم دے، نیز سائل زکوٰۃ کی رقم تنخواہ یابجلی کی مد میں بھی نہیں دے سکتا۔

فتاویٰ شامی میں ہے :

"ولو دفعها المعلم لخلیفته إن کان بحیث یعمل له لو لم یعطه صح، و إلا لا،(قوله: وإلا لا )؛ لأن المدفوع یکون بمنزلة العوض."

(کتاب الزکوۃ،باب مصرف الزکوۃ،ج:2،ص:356،ط:سعید)

فتاویٰ عالمگیری  میں ہے :

"فهي تملیك المال من فقیر مسلم ... بشرط قطع المنفعة عن المملك من کل وجه."

(كتاب الزكوة،الباب الاول في تفسير الزكوة،ج:1،ص:170،ط:رشيديه)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144401101383
تاریخ20-08-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں