بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

26 ربیع الثانی 1448ھ 09 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نو سال سے کم بیٹی کو برہنہ دیکھنے کی صورت میں حرمت کا حکم

سوال

 اگر کوئی شخص اپنی سگی بیٹی کو برہنہ دیکھ لے اور بغیر کسی گناہ کی نیت سے دل میں کسی قسم کی برائی بھی نہیں ہے اور عضوِ تناسل میں حرکت پیدا ہو جائے، جب کہ بچی کی عمر 9سال سے کم ہے تو کیا بیوی اس پر حرام ہوجائے گی ؟

برائے کرم جواب دیں۔

جواب

 صورتِ مسئولہ میں  9 سال سے کم عمر بیٹی کو اگر برہنہ دیکھا ہو تو حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہو گی، اور بیوی بھی حرام نہ ہوگی، تاہم آئندہ کے لیے  احتیاط کرنا لازم ہوگا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

" وإذا نظر الرجل فرج ابنته بغير شهوة فتمنى أن يكون له جارية مثلها فوقعت منه شهوة مع وقوع بصره قالوا إن كانت الشهوة وقعت على ابنته حرمت عليه امرأته وإن كانت الشهوة وقعت على التي تمناها لا تحرم؛ لأن نظره في هذه الصورة إلى فرج ابنته لم يكن عن شهوة، كذا في فتاوى قاضي خان والذخيرة. ... ويشترط أن تكون المرأة مشتهاة، كذا في التبيين. والفتوى على أن بنت تسع محل الشهوة لا ما دونها، كذا في معراج الدراية.

وقال الفقيه أبو الليث ما دون التسع سنين لا تكون مشتهاة وعليه الفتوى، كذا في فتاوى قاضي خان. وحكي عن الشيخ الإمام أبي بكر - رحمه الله تعالى - أنه كان يقول: ينبغي للمفتي أن يفتي في السبع والثمان أنه لا تحرم إلا إن بالغ السائل أنها عبلة ضخمة جسيمة فحينئذ يفتي بالحرمة، كذا في الذخيرة والمضمرات."

( كتاب النكاح، الباب الثالث في بيان المحرمات، القسم الثاني المحرمات بالصهرية، ١ / ٢٧٤ - ٢٧٥، ط: دار الفكر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144401101300
تاریخ18-08-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں