بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مخنث جانور کا صدقہ

سوال

 مخنث بکرا قربانی اور عقیقہ میں تو نہیں لگتا، پوچھنا تھا کہ ایسے جانور کا صدقہ جائز ہے ؟

جواب

 مخنث جانور  کی قربانی اور عقیقہ تو عیب دار ہونے کی وجہ سے  شرعا جائز نہیں،لیکن چوں  کہ  جانور کے صدقہ میں  ذبح کرکے اس کا گوشت فقراء ومساکین میں صدقہ  کرنامقصود ہوتا ہے،نفس جانور نہیں ،اور  مخنث بکرے  کا گوشت    کھانا  شرعا جائز ہے؛اس لئے  ایسے جانور کا  صدقہ کرنا  شرعا جائز ہے۔

مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

''زندہ جانور صدقہ کردینابہتر ہے،شفائے مریض کی غرض سے ذبح کرنا اگر محض لوجہ اللہ(رضائے الہی کے لیے)ہوتومباح تو ہے ، لیکن اصل مقصد بالاراقۃ(خون بہانے سے )صدقہ ہوناچاہیے نہ کہ فدیہ جان بجان''۔

(8/252)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144401101071
تاریخ15-08-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں