بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 جُمادى الأولى 1448ھ 16 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کلیئرنگ ایجنٹ کا اپنے کلائنٹ کا مال یکمشت ادائیگی کرکے چھڑوانا اور ادا کردہ رقم کے ساتھ کسٹم ڈیوٹی کلائنٹ سے خود وصول کرنا

سوال

ہمارے کلیئرنگ ایجنٹس نے سوال پوچھا ہے کہ ان کے ایک کلائنٹ کسٹم بونڈ میں اپنا مال رکھتے ہیں اور پھر جیسے جیسے رقم آتی ہے، وہ اتنے مال کی کسٹم ڈیوٹی ادا کر کے اتنا مال کلیئر کرا لیتے ہیں، کسٹم والے مال رکھنے کے عوض ایک فیصد اضافی چارجز وصول کرتے ہیں، اب کلیئرنگ ایجنٹس نے سوال یہ کیا ہے کہ میں نے اپنے کلائنٹ سے کہا ہے کہ میں تمہارے مال کی ڈیوٹی ادا کر دوں گا، اس طرح تمہارا تمام مال یکمشت ریلیز ہو کر تمہیں مل جائے گا، جب مال فروخت کر دو تو مجھے میری رقم اور جو ایک فیصد تم کسٹم کو دیتے ہو وہ مجھے دے دینا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ایک فیصد رقم وصول کرنا جائز ہے ؟

جواب

سائل کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے کلائنٹ کی کسٹم ڈیوٹی ادا کرکے اس کا سارا مال یکمشت آزاد کرکے مال فروخت ہونے کے بعد اپنی اصل رقم کے علاوہ ایک فی صد اضافی رقم لے، کیوں کہ یہ اضافی رقم لینا  سود ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: کلّ قرض جرّ نفعًا حرام) أي: إذا کان مشروطًا کما علم مما نقله عن البحر."

(مطلب کل قرض جر نفعًا حرام، فصل في القرض، باب المرابحة والتولیة، ص:166، ج:5، ط:سعید)

فقط و اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144401100960
تاریخ13-08-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں