بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اپنے بیٹوں کوان کے مامو اور چچا زاد بھائیوں سے رشتے نہیں کرنے کی وصیت کرنا

سوال

 میرے نانا نے اپنے زندگی میں ماموں کو یہ وصیت کی تھی کہ مامو ں اپنے مامو ں اور چچا زاد بھائیوں سے رشتے نہیں کرے گا، اگر کیا تو میرا حق معاف نہیں، اب ماموں کو اس وصیت پر عمل کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کے نانا نے اپنے بیٹوں کو ان کے ماموں اور چچازاد سے رشتہ نہ کرنے کی جو  وصیت کی ہے ،یہ ناجائز وصیت ہے، کیوں کہ اس میں قطع تعلق کا حکم  ہے ایسی وصیت شرعاً معتبر اور قابل نفاذ نہ ہوگی ،اگر وہ قطع تعلق کریں گے تو اس کا گناہ سائل کے نانا اور ماموں سب کو ہوگا،تاہم اگر سائل  کے نانا نے کسی دنیوی یا اخروی مصلحت کے پیش نظر رشتہ نہ کرنے کی تاکید کی ہے ،قطع تعلق کا حکم نہیں دیا تو سائل کے ماموں کے لیے نانا کے مشورے کے مطابق عمل کرنے کی گنجائش ہے۔

موسوعۃ الاجماع فی الفقہ الاسلامی میں ہے:

"قال ابن الهمام: (‌الوصية ‌بالمعصية ‌باطلة ‌لما ‌في تنفيذها من تقرير المعصية)۔"

(باب لا تجوز الوصية بالمعصية ولا تنفذ،ج:8،ص:371،ط:دارالفضیلة)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144401100896
تاریخ13-08-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں