بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اسکول میں بچوں کو کام وغیرہ دے کے فارغ ہو چکے تو کیا ذکر اذکار کر سکتے ہیں؟

سوال

سکول میں اگر بچوں کو کام وغیرہ دے کے فارغ ہو چکے تو کیا ذکر اذکار کر سکتے ہیں؟

جواب

واضح رہےکہ اسکول ٹیچر ،مدارس کے اساتذہ،اوراسی طرح ماہانہ تنخواہ پررکھاگیاملازم اجیرخاص کہلاتاہے اور اجیرخاص مقررہ وقت میں طے شدہ مفوضہ کام کے انجام دینے کاپابندہوتاہے ۔لہذاصورت مسئولہ  میں ادارہ کی طرف سےمقررہ وقت میں  مفوضہ ذمہ داری مکمل کرلی ہوتوفارغ اوقات میں کام کی جگہ پر بیٹھ کر ذکر واذکارکرسکتے ہیں ۔

فتاوی شامی  میں ہے :

"والثاني  وهو الأجير  الخاص  ويسمى أجير واحد  وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة."

(الدرالمختار  ٦ / ٦۹ ط : سعید)

فتاوعالمگیری میں ہے :

"إذا استأجر رجلا يوما ليعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوب."

(الفتاوی الھندیۃ  ۴ / ۴۱٦-۴۱۷ ط : رشیدیہ)

فتاوی شامی  میں ہے :

"قال في التاترخانية وفي فتاوى الفضلي وإذا استأجر رجلا يوما يعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة  وفي فتاوى سمرقند وقد قال بعض مشايخنا له أن يؤدي السنة أيضا  واتفقوا أنه لا يؤدي نفلا وعليه الفتوى."

(ردالمحتار  ٦ / ٦۹ ط : سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144401100882
تاریخ13-08-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں