بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز میں تشہد اور درود شریف کا حکم

سوال

نماز میں امام کے پیچھے التحیات اور درود شریف پڑھنا کیساہے؟

جواب

نماز  میں خواہ اکیلے نماز پڑھی جائے یا  امام کے پیچھےہوں،   قعدہ اولیٰ اور قعدہ ثانیہ یعنی  ہر قعدہ میں التحیات (تشہد )  پڑھنا واجب ہے، چاہے فرض نماز ہو یا تراویح، جب کہ نماز میں  دورد شریف پڑھنا سنت ہے، خواہ فرض ہو، سنت ہو یا نفل، لہٰذا مام کے پیچھے التحیات اور درود شریف دونوں پڑھے جائیں گے۔

حلبی کبیر میں ہے:

"ومنهاقراءة التشهد فانها واجبة في القعدتين الاولي والاخيرة."

(کتاب الصلوۃ،واجبات الصلوۃ،ص:258،ط:مکتبہ نعمانیہ کوئٹہ)

فتاوٰی شامی میں ہے:

"(والتشهدان) ويسجد للسهو بترك بعضه ككله وكذا في كل قعدة في الأصح إذ قد يتكرر عشراً (قوله: والتشهدان) أي تشهد القعدة الأولى وتشهد الأخيرة."

(کتاب الصلوۃ،واجبات الصلوۃ،466/1،ط:ایچ ایم سعید)

وفیہ ایضاً:

"(وصلى على النبي صلى الله عليه وسلم) ... وسنة في الصلاة، ومستحبة في كل أوقات الإمكان، (قوله: وسنة في الصلاة) أي في قعود أخير مطلقاً، وكذا في قعود أول في النوافل غير الرواتب، تأمل."

(کتاب الصلوۃ،باب صفۃ الصلوۃ،512،518/1،ط:ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144401100784
تاریخ10-08-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں