بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

یہ کام کیا تو فارغ کردوں گا یا طلاق دے دوں گا سے طلاق کا حکم

سوال

1-اگر بیوی کو کسی کام کے لیے منع کیا کہ یہ کام کیا تو فارغ کروں گا یا طلاق دوں گا لیکن بعد میں وہ کام کرنا مجبوری بن گیا تو کیا خاوند اجازت دے سکتا ہے کوئی حرج آۓ گا؟

2- کیا بیوی اور بیٹیوں کو ایک ساتھ ماں طلاق کی گالی دینے سے بیوی کو طلاق واقع ہو گی جب کہ دل میں ایسی کوئی نیت نہیں؟ رہنمائی فرمائیں!

جواب

۱۔صورتِ  مسئولہ میں شوہر مذکورہ  جملہ  (کہ  یہ کام کیا تو فاروغ کردوں گا یا طلاق دے دوں گا )کہنے کے بعد بیوی کو اس کام کی اجازت دے سکتا ہے اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی ۔

۲۔طلاق کے الفاظ کیا تھے؟ لکھ  کر بھیجیں توجواب دیا جائے گا۔

فتاوی عالمگیری میں ہےـ:

"في المحيط لو قال بالعربية أطلق لايكون طلاقًا إلا إذا غلب استعماله للحال ‌فيكون ‌طلاقًا."

(کتاب الطلاق ، الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ الفارسیة جلد ۱ ص: ۳۸۴ ط: دارالفکر)

فقط و اللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144401100762
تاریخ10-08-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں