بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

آئس نشہ کے کاروبار کا حکم

سوال

آئس کا  کاروبار حرام ہے کہ حلال ؟

جواب

آئس نشہ  جسے ”کرسٹل میتھ “بھی کہتے ہیں ایک کیمائی عمل سے تیار کردہ خطرناک نشہ ہے، اس کے کاروبار کا حکم یہ ہے کہ چوں کہ  اس کا استعمال صرف نشہ میں ہوتا ہے لہذا  اس کی خرید و فروخت کرنا اور کاروبار کرنا ناجائز ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(و يحرم أكل البنج والحشيشة) هي ورق القتب (والأفيون)؛ لأنه مفسد للعقل ويصد عن ذكر الله وعن الصلاة (لكن دون حرمة الخمر، فإن أكل شيئاً من ذلك لا حد عليه، وإن سكر) منه (بل يعزر بما دون الحد)، كذا في الجوهرة".

(كتاب الأشربة457/6ط:ایچ ایم سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

"و الحاصل أن جواز البیع یدور مع حل الانتفاع."

(باب بيع الفاسد، ج:5، ص:69، ط:ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144401100755
تاریخ10-08-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں