بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا سوال کسی بھی مفتی سے پوچھا جا سکتا ہے؟

سوال

کیا سوال کسی بھی مفتی سے پوچھا جا سکتا ہے؟

جواب

مسئلہ بتانا ایک بہت بڑی شرعی ذمہ داری،اور   انتہائی نازک وحساس کام ہے جس میں سائل کاسوال سمجھنا،اس کا مقصد پہچاننا اور اور اس کے زمانے ،مکان اور عرف کی واقفیت کے ساتھ  ساتھ ، ملتی جلتی جزئیات میں امتیاز اور جواب میں مفتٰی بہٖ قول اختیار کرنا ،ایسے  بہت  سے امور  ہیں جن کا ادراک  ممارسۃ اور مسلسل تجربے کا متقاضی ہے، اور ان امور کی انجام دہی کسی  مستند دارالافتاء  سے  وابستہ مفتی ہی  کرسکتاہے، اس  لیے سوال  ہمیشہ مستند مفتی  سے پوچھنا چاہئے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144401100687
تاریخ07-08-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں