بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سفارش پر ملنے والی نوکری کا کرنا درست ہے یا نہیں؟

سوال

اگر نوکری سفارش پر ملے، اور تعلیمی قابلیت بھی پوری ہو، اور کام بھی آتا ہو تو نوکری کرنا درست ہوگا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر سائل نوکری کا اہل ہے ، متعلقہ ذمہ داریاں امانت داری کے ساتھ بحسن و خوبی انجام دیتاہے ،اس کی وجہ سے کسی کا حق نہیں مارا جاتا ، تو یہ سفارش پر ملنے والی نوکری کاکرنا درست ہے ، اور اس کی آمدنی حلال ہے ۔

الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے:

‌‌"الشفاعة الحسنة:

 الشفاعة الحسنة: وهي: أن يشفع الشفيع لإزالة ضرر أو رفع مظلمة عن مظلوم، أو جر منفعة إلى مستحق ليس في جرها ضرر ولا ضرار، فهذه مرغوب فيها مأمور بها، قال الله تعالى: {وتعاونوا على البر والتقوى} (4) . وللشفيع نصيب في أجرها وثوابها قال الله تعالى (1) : {من يشفع شفاعة حسنة يكن له نصيب منها}".

(الموسوعة الفقهية الكويتية، ج:26 / ص:132، صادر عن: وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية - الكويت)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144401100657
تاریخ07-08-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں