بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کنویں میں آدمی گرکر مرگيا، اب پانی کا کیا حکم ہے؟

سوال

اگر آدمی کنویں میں گر کر  مر جائے تو کنواں  کیسے پاک ہو گا؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کنویں میں کوئی آدمی گرکر مرجائے تو اس کنویں کے تمام پانی کو نکالنا ضروری ہے اور اگر کنواں جاری ہو، تو ایک وقت ہی جتنا پانی کنویں میں جمع رہتا ہے، اتنی مقدار میں پانی نکال دینے سے کنواں پاک ہوجائے گا۔ 

بدائع الصنائع میں ہے:

"وعن ابن عباس وابن الزبير - رضي الله عنهما - أنهما أمرا بنزح جميع ماء زمزم حين مات فيها زنجي وكان بمحضر من الصحابة - رضي الله عنهم -، ولم ينكر عليهما أحد فانعقد الإجماع عليه وأما الفقه الخفي فهو أن في هذه الأشياء دما مسفوحا وقد تشرب في أجزائها عند الموت فنجسها......والآدمي وما كانت جثته مثل جثته كالشاة ونحوها يجاور جميع الماء في العادة؛ لعظم جثته فيوجب تنجيس جميع الماء."

(‌‌كتاب الطهارة،فصل في بيان المقدار الذي يصير به المحل نجسا،75/1،دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144401100452
تاریخ03-08-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں