بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حقیقی بھائی کی موجودگی میں سوتیلے بھائی کا ميراث میں حصہ

سوال

ایک بھائی کے انتقال ہوجانے کے بعد،اگرسگا بھائی موجود ہوں تو کیا سوتیلے بھائی کو جائیداد میں حصہ ملے گا یا نہیں؟

جواب

 واضح رہے کہ حقیقی بھائی بہن  کی موجودگی میں سوتیلے بھائی کو میراث میں حصہ نہیں ملتا،لہذا صورتِ  مسئولہ میں حقیقی بھائی کے ہوتے ہوئے سوتیلے بھائی کو  جائیداد میں حصہ نہیں ملے گا،البتہ اگر ورثاء سب عاقل بالغ ہوں ،اور باہمی رضامندی سے اس بھائی کو کچھ دینا چاہیں تو دے  سکتے ہیں، یہ ان کی طرف سے تبرع اور احسان ہوگا۔

"عن علي قال: إنكم تقرؤن من بعد وصیة یوصی بها أو دین، وإن رسول الله ﷺ قضی بالدین قبل الوصیة، وأن أعیان بني الأم یتوارثون دون بني العلات، یرث الرجل أخاه لأبیه و أمه، دون أخیه لأبیه".

 (مسند أحمد بن حنبل ۱/۱۴۴، رقم: ۱۲۲۲)

سراجی میں ہے:

"یرجحون بقوة القرابة أعني به ذا القرابتین أولی من ذي قرابة واحدة ذکراً کان أو أنثیٰ؛ لقوله علیه السلام: إن أعیان بني الأم یتوارثون دون بني العلات."

( ص:۲۱، شریفیہ ص:۴۷)

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144401100429
تاریخ03-08-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں