بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ارتضی نام رکھنے کا حکم

سوال

فتوی نمبر144110200485 اور  فتوی نمبر :144209200388 ، یہ دونوں فتوے "ارتضی" نام رکھنے کے بارے میں ہیں، لیکن پہلے نمبر فتوی میں "ارتضی" نام رکھنا جائز قرار دیا گیا، جب کہ نمبر دو فتوی میں اسی نام کو ناجائز قرار دیا گیا، اس کی کیا وجہ ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں "ارتضی" نام رکھنا شرعاً جائز ہے، اس  میں کوئی حرج نہیں ہے اور فتوی نمبر144209200388 میں "ارتضی"  نام رکھنے کے عدم جواز کےبارے میں جاری کردہ جواب میں مغالطہ ہواہے، جس پر ہم سائل کے توجہ دلانے پر مشکورہیں۔

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144401100374
تاریخ03-08-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں