بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

محرم میں سبیل لگانا اور اس سے پینے کاحکم

سوال

 محرم کے مہینے میں پہلے دس دن ہرجگہ پانی کی سبيل لگائی جاتی ہے،یہ پانی پینا کیسا ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ خاص محرم کے مہینے میں ہی جگہ جگہ سبیل لگا کر  شربت بنا کر لوگوں میں تقسیم کرنے کو کار ثواب سمجھنا بدعت اور تشبہ بالروافض کی وجہ سے ناجائز ہے ۔

حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:

”محرم میں ذکر شہادت حسین کرنا اگرچہ بروایات صحیحہ ہو یا سبیل لگانا، شربت پلانا یا چندہ سبیل اور شربت میں دینا یا دودھ پلانا سب نادرست اور تشبہ روافض کی وجہ سے حرام ہیں“۔

(فتاوی رشیدیہ، ص:۱۳۹،دارالاشاعت )

لہذا صورت مسئولہ میں محرم الحرام میں سبیل لگانا غلط عقائد پر مبنی اور روافض کا شعار ہے، لہذا مسلمانوں کو ان خاص دنوں میں ان مروجہ سبیلوں سے پانی یا شربت پینا یا کوئی چیز کھانے سے  بچنا چاہیے۔

حديث شريف ميں هے : 

"عن ابن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من تشبه بقوم فهو منهم."

(کتاب اللباس،باب فی لبس الشھرہ،144/6، دار الرسالة العالمية)

فیض القدیرمیں ہے : 

"من سود بفتح السين وفتح الواو المشددة بضبطه أي من كثر سواد قوم بأن ساكنهم وعاشرهم وناصرهم فهو منهم وإن لم يكن من قبيلتهم أو بلدهم مع قوم فهو منهم."

(حرف المیم،156/6، المکتبة التجاریة الکبری)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144401100363
تاریخ03-08-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں