بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ٹیسٹ ٹیوب بے بی کاحکم

سوال

میرا ایک سالہ ہے اس کے بچے نہیں ہوتے ڈاکٹر نے بتایا کہ آپ کے جرثومے کمزورہیں  آپ کا بچہ صرف ایک طریقہ سے ہوسکتا ہے کہ آپ کا جرثومہ  نکال کے آ پ کی بیوی کی  بچہ دانی میں انجکشن کے ذریعہ ڈال دیاجایے تو بچہ ہو نا  تب ممکن ہے، تو شریعت اس بارے میں کیا کہتی ہےکیوں  کہ اس کو اولاد کی بہت تمنا ہے۔

جواب

واضح رہے کہ شوہر اور اس کی اہلیہ میں ٹیسٹ ٹیوب  بی بی کی اجازت صرف اس صورت میں  ہے کہ کسی ڈاکٹر سے ٹیسٹ ٹیوب بے بی کا طریقہ کار معلوم کرکے شوہر  اپنا مادہ منویہ خود  یا بیوی اپنے شوہر کا مادہ منویہ اپنے  رحم میں داخل کرے اور اس میں کسی تیسرے فرد کا بالکل عمل دخل نہ ہو (یعنی کسی مرحلے میں بھی شوہر یا بیوی میں سے کسی کا ستر  کسی مرد یا عورت کے سامنے نہ کھلے، نہ ہی  چھوئے) تو اس کی گنجائش ہے ،لہذا اگر شوہر اور اس کی بیوی میں  مذکورہ عمل کے لیے کسی تیسرے شخص کی مدد لی جائے گی تو یہ عمل شرعًا جائز نہیں ہوگا ۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"امرأۃ أصابتها قرحة في موضع لايحلّ للرجل أن ينظر إليه لايحلّ أن ينظر إليها، لکن تعلم امرأۃً تداويها، فإن لم يجدوا امرأۃً تداويها، و لا امرأۃ تتعلم ذلك إذا علمت و خيف عليها البلاء أو الوجع أو الہلاك، فإنّه يستر منها کل شيء إلا موضع تلك القرحة، ثمّ يداويها الرجل و يغضّ بصرہ ما استطاع إلا عن ذلك الموضع، و لا فرق في هذا بين ذوات المحارم وغيرهنّ؛ لأنّ النظر إلی العورۃ لايحلّ بسبب المحرمية، کذا في فتاوٰی قاضي خان."

(ج:۵، ص:۳۳۰، الباب التاسع في اللبس، ماجدیة)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144401100362
تاریخ03-08-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں