بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چندے کی رقم پر زکاۃ

سوال

مسجد کے چندے کی رقم ایک لاکھ اکاوئنٹ میں ہو اور اس کو ایک سال ہو جائے تو اس پر زکاۃ ہوگی یا نہیں ؟

جواب

جو رقم  چندہ یا عطیہ کے طور پر کسی کارِ خیر میں دی جاتی ہے وہ  چندہ یا عطیہ  دینے والوں کی ملکیت سے خارج ہوجاتی ہے اور  اس کی حیثیت مالِ وقف کی ہوجاتی ہے ؛ اس  لیے اس پر زکوۃ واجب نہیں ہوتی، زکوۃ شخصی ملکیت پر واجب ہوتی ہے۔ 

وفي الدر المختار وحاشية ابن عابدين:

"(وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي).

(قوله ملك نصاب) فلا زكاة في سوائم الوقف والخيل المسبلة لعدم الملك."

(كتاب الزكاة،رد المحتار2/ 259ط:سعيد)

وفي الفقه على المذاهب الأربعة:

"الثاني: أن يكون مملوكاً لمالك معين بالشخص، فلا زكاة في الموقوف على المساجد، على الصحيح، إذ ليس لها مالك معين، كما لا زكاة في النخيل المباح بالصحراء إذا لم يكن لها مالك معين."

 (كتاب الزكاة،زكاة الزرع والثمار،1/ 559الناشر: دار الكتب العلمية، بيروت - لبنان)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144401100361
تاریخ03-08-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں