بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فتوی کسے کہتے ہیں؟ فتوی بلا دلیل کا کیا حکم ہے؟

سوال

فتوی کسے کہتے ہیں ؟ اور دیوبندیت کے نزدیک فتوی دیتے وقت دلیل ضروری ہے؟اگر کوئی فتوی بغیر دلیل کے ہو تو اس کی کیا حیثیت ہے؟

جواب

فتوی کے معنی شرعی حکم کو واضح کرنے کے آتے ہیں، یعنی  شرعی دلائل کی روشنی میں پیش آمدہ مسائل کے حکم کی وضاحت کرنا، کہ آیا حلال ہے یا حرام ہے، جائز ہے، یا ناجائز ہے، مکروہ ہے، یا مباح ہے، لہذاتعریف سے معلوم ہوتا ہے کہ فتوی کا مدار دلائل شرعیہ پر ہوتا ہے، لہذا اگر فتوی موافق دلیل ہو تو معتبر سمجھا جائے گا، خواہ مفتی نے فتوی دیتے وقت دلیل قلم بند کی ہو یا نہ کی ہو، البتہ اگر کوئی فتوی موافق دلیل نہ ہو تو ایسا فتوی معتبر نہ ہوگا۔

الفروق للقرافي میں ہے:

"الفتوى: إخبار عن حكم الله تعالى في إلزام أو إباحة."

(الفرق الرابع والعشرون والمائتان بين قاعدة الفتوى وقاعدة الحكم  ٤ / ٥٣، ط: عالم الكتب)

حاشية الدسوقي علي الشرح الكبير للدردير میں ہے:

"(والفتوى) وهي الإخبار بالحكم الشرعي على غير وجه الإلزام."

( باب الجهاد، ٢ / ١٧٤، ط: دارالفكر)

مطالب اولي النهي للرحيباني میں ہے:

"(وهي) أي: الفتيا اسم مصدر من أفتى يفتي إفتاء (تبيين الحكم الشرعي) للسائل عنه والإخبار بلا إلزام."

( كتاب القضاء والفتيا،٦ / ٤٣٧،ط: المكتب الإسلامي)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144401100264
تاریخ01-08-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں