بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مشترک گاڑی میں کسی ایک شریک کا ذاتی ملکیت کا دعوی کرنا

سوال

ہم سب ایک ساتھ ایک گھرمیں رہتے تھے،گھر کاسارا خرچہ میں اٹھاتاتھا،میرے ایک بیٹے نے ایک گاڑی خریدی ،جس کی خریداری میں میں نے بھی پیسے دیے تھے،میں نے کچھ عرصہ قبل اپنی جائیداد تمام اولاد کے درمیان برابر تقسیم کردی،اب میرا بیٹا یہ کہہ رہاہے کہ گاڑی صرف میری ہے۔

اب پوچھنایہ ہے کہ کیا واقعۃً وہ گاڑی صرف اسی کی ہےیا ہمارا بھی اس میں سے کچھ حصہ ہے؟

واضح رہے کہ گاڑی کی خریداری میں 2لاکھ روپے میں نے اپنے دئیے تھے،اور میری بیوی نے چار تولہ سونا دیاتھا،اور یہ رقم صرف اس لیے دی تھی گاڑی سب میں مشترک ہوگی۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب سائل نے اپنے بیٹے کو 2لاکھ روپے گاڑی خریدنے کے لیے دیے تھے،اور سائل کی بیوی نے چار تولہ سونا بیچ کرگاڑی خریدنے کے لیے رقم دی تھی،اور بقیہ پیسے سائل کے بیٹے نے لگاکر گاڑی خریدی ہے تو یہ گاڑی ان تینوں کے درمیان اپنے اپنے سرمایہ کے تناسب سے مشترک ہے،سائل کے بیٹے کا یہ کہناکہ" گاڑی صر ف میری ہے " درست نہیں ہے،البتہ اب تقسیم کی دوصورتیں ہیں،ایک تو یہ ہے کہ گاڑی بیچ کر اس کی رقم اسی تناسب سے تقسیم کی جائے جس تناسب سے خریدی تھی،یابیٹا گاڑی اپنے پاس رکھ لے ،اورماں باپ کو ان کی رقم اُن کے حصوں کے اعتبار سے  واپس کردے ۔

تنقیح  الحامدیۃ میں ہے :

"(سئل) في دار مشترکة بین زید وعمرو غیر قابلة للقسمة سکنھا زید وحدہ ولایرضي عمرو بالسکني معه فیھا و قال اِمّا أن تؤجرني حصّتك او تستاجر منّي حصّتي أو یسکنھا کلّ بمفردہ بحسب حصته مدّۃ فھل له ذالك؟

(الجواب) نعم و یأمر القاضي زیدا باختیار وجه من الأوجه الثلاثة أو یخرج منھا زید و توجّر لأجنبي و یقتسمان الأجرۃ بحسب حصصھا والحالة هذه ،و أفتي بذالك المرحوم الجدّ عبد الرحمٰن أفندي العمادي."

(کتاب الشرکة في الفصل الاول/ص۔87)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144401100174
تاریخ31-07-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں