بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دونوں ہاتھوں کو سر کے پیچھے باندھنا

سوال

 جب بندہ مطمئن ہو کر کرسی پر بیٹھتا ہے تو بعض اوقات دونوں ہاتھ سر کے پیچھے باندھ لیتا ہے، لیکن کچھ لوگ کہتے ہیں کہ سر کے پیچھے ہاتھ باندھنا جائز نہیں ہے یا اس میں نحوست ہے وغیرہ، شرع کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

جواب

دونوں ہاتھوں کو دونوں  کوکھ پر  رکھنے  کی  ممانعت تو  شریعت  میں آئی ہے، البتہ سر کے پیچھے باندھنے کی ممانعت سے متعلق کوئی صراحت نہیں مل سکی۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(والتخصر) وضع اليد على الخاصرة؛ للنهي (ويكره خارجها) تنزيهاً.
(قوله: والتخصر إلخ)؛ لما في الصحيحين وغيرهما: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الخصر في الصلاة». وفي رواية: "عن «الاختصار». وفي أخرى: «عن أن يصلي الرجل مختصراً». وفيه تأويلات، أشهرها ما ذكره الشارح، وتمامه في شرح المنية والبحر. قال في البحر: والذي يظهر أن الكراهة تحريمية في الصلاة؛ للنهي المذكور. اهـ.؛ ولأن فيه ترك سنة الوضع، كما في الهداية، لكن العلة الثانية لاتقتضي كراهة التحريم، نعم تقتضي كراهة وضع اليد على عضو آخر غير الخاصرة."

(كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج: 1، ص: 643، ط: دار الفكر بيروت)

 فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144401100083
تاریخ30-07-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں