بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز میں اگر ٹوپی گرجائے تو حکم

سوال

نماز میں اگر ٹوپی گر گئی تو نماز نہیں ہوگی؟

جواب

     اگر نماز پڑھتے وقت حالتِ قیام یا رکوع میں سر سے  ٹوپی گر جائے تو اس صورت میں اگر نیچے جھک کر ٹوپی اٹھاکر پہنے گا تو یہ عمل کثیر ہوجائے گا اور اس سے نماز فاسد ہوجائے گی ؛  اس لیے اس حالت میں نہیں پہننی چاہیے، البتہ اگر سجدہ یا قعدہ کی حالت ایک ہاتھ سے عملِ قلیل کے ذریعہ ٹوپی اٹھا کر پہنے تو یہ جائز ہی نہیں، بلکہ افضل ہے۔اور اگر ٹوپی نہ پہنی تب بھی نماز ہوجائے گی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 625):

'' أن ما يعمل عادة باليدين كثير وإن عمل بواحدة، كالتعميم وشد السراويل، وما عمل بواحدة قليل وإن عمل بهما، كحل السراويل ولبس القلنسوة ونزعها، إلا إذا تكرر ثلاثاً متواليةً.''

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144312100892
تاریخ21-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں