بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مرغی کے گوشت کے علاوہ دیگر اشیاء (انتڑیاں، کھال، پنجے وغیرہ) کی خرید و فروخت

سوال

زید پولٹری کی دکان سے مرغیوں کے کچرے یعنی گوشت کے علاوہ کھال، پائے، انتڑیاں اور خون وغیرہ مکس خرید کر آگے بیچتا ہے، کیا زید کی یہ کمائی حلال ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں زید کا پولٹری کی دوکان سے مرغی کی کھال، پائے اور انتڑیوں کی خرید و فروخت تو جائز ہوگی، البتہ خون کی خرید و فروخت میں تفصیل یہ ہے کہ اگر وہ خون  دم مسفوح ( یعنی جانور ذبح کرتے وقت فوارے کی طرح بہتا ہوا خون )ہے  تو وہ خون ناپاک اور اس کی خرید و فروخت بھی ناجائز ہے ، لیکن اگر وہ خون دم مسفوح نہیں ہے، بلکہ گوشت وغیرہ سے نکلنے والا خون ہے تو اس کی خرید و فروخت جائز  ہوگی ۔ 

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (1/ 189):

"وفي عيون المسائل: الدم الملتزق باللحم إن كان ملتزقاً من الدم السائل بعدما سال كان نجساً، وإن لم يكن ملتزقاً من الدم السائل لم يكن نجساً".

کبیری  میں ہے:

"ما لزق من الدم السائل باللحم فهو نجس، وما بقي في اللحم والعروق من الدم الغیر السائل فلیس بنجس".

(ص:195، فصل في الآسار، سهیل أکادمي) 

الوجیز فی ایضاح القواعد الفقهیة الکلیة میں ہے:

كل شيء كره أكله والإنتفاع به على وجه من الوجوه فشراؤه وبيعه مكروه، وكل شيء لا بأس بالانتفاع به فلا بأس ببيعه. (1/25)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144312100886
تاریخ19-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں