بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زکات میں تجارتی مال کا مطلب

سوال

میں  کراکری کا کاروبار کرتا ہوں اور میں نے ایک گاڑی تجارت کی نیت سے خریدی ہے؛ تاکہ کراکری  کا  سامان لے جانے اور لے آنے میں آسانی ہو، کیا اس پر زکات ہے؟

جواب

واضح رہے  کہ  زکات  کے باب میں  کسی چیز کو تجارت کی نیت  سے خریدنے کا مطلب  یہ ہے کہ اس چیز کو آگے بیچنے کی نیت سے خریدا جائے تو اس صورت میں اس پر شرعًا زکات  واجب ہوتی ہے ، لیکن اگر   اپنے تجارتی کام میں  استعمال  کے لیے کوئی  چیز  خریدی  جائے تو  اس صورت میں وہ تجارتی نہیں  کہلائے گی اور اس پر شرعًا  زکات نہیں آئے گی ؛    لہذا  بصورتِ مسئولہ آپ نے مذکورہ گاڑی اگر اپنے تجارتی سامان کے نقل وحمل کے  لیے لی ہے، آگے بیچنے کی نیت سے نہیں خریدی تو اس صورت میں یہ گاڑی  زکات کے باب میں  مالِ  تجارت  شمار نہیں ہوگی اور اس پر  زکات واجب نہیں ہوگی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2 / 272):

"(وما اشتراه لها) أي للتجارة (كان لها) لمقارنة النية لعقد التجارة (لا ما ورثه ونواه لها) لعدم العقد إلا إذا تصرف فيه أي ناويا فتجب الزكاة لاقتران النية بالعمل".

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144312100874
تاریخ17-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں