بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میت کو کفنانے کا مسنون طریقہ

سوال

 میت کو کفن  دینے  کا مسنون طریقہ  کیا  ہے؟

جواب

میت (مرد) کو کفنانے کا طریقہ یہ ہے کہ چارپائی پر  پہلے  لفافہ بچھا کر اس پر  اِزار بچھا دیں، پھر کُرتے  (قمیص)  کا نچلا نصف  حصہ بچھائیں اور اوپر  کا باقی حصہ سمیٹ کر سرہانے کی طرف رکھ دیں، پھر میّت کو ستر کا خیال رکھتے ہوئے غسل کے تختے سے آہستہ سے اٹھا کر اس بچھے ہوئے کفن پر لٹا دیں اور قمیص کا  جو نصف  حصہ سرہانے کی طرف رکھا  تھا، اُس کو سر کی طرف اُلٹ دیں کہ قمیص کا سوراخ (گریبان) گلے میں آ جائے اور پیروں کی طرف بڑھا دیں۔ جب اس طرح قمیص (کرتہ)  پہنا چکیں تو غسل کے بعد جو  تہہ بند میّت کے بدن پر ڈالا گیا تھا وہ نکال دیں، اور میت کے سَر اور داڑھی پر عطر وغیرہ کوئی خوش بو  لگا دیں،  پھر پیشانی، ناک، دونوں ہتھیلیوں، دونوں گھٹنوں اور دونوں پاؤں پر (یعنی جن اعضاء پر آدمی سجدہ کرتا ہے)  کافور  مل  دیں۔

اس کے بعد  اِزار  کا بایاں  پلّہ  (کنارہ)  میّت  کے اوپر لپیٹ دیں، پھر دایاں لپیٹیں، یعنی بایاں پلّہ نیچے رہے اور دایاں اوپر، پھر لفافہ اسی طرح لپیٹیں کہ بایاں پلّہ نیچے اور دایاں اوپر رہے، پھر کپڑے کی دھجی (کتر) لے کر کفن کو سر اور پاؤں کی طرف سے باندھ دیں، اور بیچ میں سے کمر کے نیچے کو بھی ایک دھجی (کتر) نکال کر باندھ دیں، تاکہ ہوا یا ہلنے جلنے سے کھل نہ جائے۔

(احکام میت ص:83-84ط:ادارۃ الفاروق)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144312100865
تاریخ16-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں