بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نکاح کے بعد رخصتی کے لیے دوبارہ استخارہ

سوال

استخارہ کرنے کے بعد شادی ہوئی دوبارہ استخارہ کرنا چاہیے کہ  شوہر کے پاس جانا چاہیے کہ نہیں ؟ 

جواب

بصورتِ  مسئولہ استخارہ کرنے کے بعد جب نکاح ہوگیا تو  اب  رخصتی کے  لیے دوبارہ استخارہ  نہیں کیا جائے گا، ہاں اگر رخصتی کا وقت متعین کرنے کے لیے استخارہ کیا جائے (مثلاً: ایک ہفتے بعد کی جائے یا دو ہفتے بعد) تو اس کی اجازت ہوگی۔

اور اگر سوال کے اس جملے "استخارہ کرنے کے بعد شادی ہوئی" سے مراد یہ ہے کہ رخصتی بھی ہوچکی ہے، اب کسی ناچاقی وغیرہ کی وجہ سے شوہر کے پاس جانے میں تردد ہے تو  صرف استخارے پر اکتفا کے بجائے خاندان کے کسی بزرگ تجربہ کار فرد سے مشورہ کرنا چاہیے، نیز اس صورت  میں صلاۃ الاستخارہ اور دعاءِ استخارہ اس نیت سے پڑھنا کہ جو  صورت بہتر ہو، وہ مقدر ہوجائے، اس کی بھی اجازت ہے۔  لیکن اس موقع پر استخارے کا یہ مطلب سمجھنا کہ خواب میں جیسا کہا جائے یا اشارہ دیا جائے، اس کے مطابق عمل کیا جائے، خواہ ظاہرِ حال کچھ اور ہو، یہ درست نہیں ہے۔فقط واللہ علم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144312100864
تاریخ16-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں