بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز میں سورہ زلزال میں "بِاَنَّ رَبَّکَ اَحْوَالَھَا" پڑھنا

سوال

امام صاحب نے فجر میں "سورۃ الزلزال" آیت {بأن ربك أوحى لها} میں  {أوحى لها} کی جگہ "أحوالها" پڑھا.. تو کیا اس سے نماز میں کوئی خلل آیا ہوگا؟

جواب

جان بوبھ کر ایسا پڑھنا جائز نہیں ہے۔ تاہم بھول کر اس طرح پڑھ لیا تو نماز ہوگئی۔

الدر المختار وحاشیۃ ابن عابدین میں ہے:

"ولو زاد كلمةً أو نقص كلمةً أو نقص حرفًا، أو قدمه أو بدله بآخر نحو من ثمره إذا أثمر واستحصد - تعالى جد ربنا - انفرجت بدل - انفجرت - إياب بدل - أواب - لم تفسد ما لم يتغير المعنى إلا ما يشق تمييزه كالضاد والظاء فأكثرهم لم يفسدها."

(کتاب  الصلاۃ، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج: 1/ 632 و633، ط: ایچ، ایم، سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144312100832
تاریخ09-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں