بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میت کو غسل دینے کے بعد دیکھنے کا حکم

سوال

 میت کو غسل دینے کے بعددیکھنا جائز ہے یا نہیں؟ بعض لوگ اس کو حرام سمجھتے ہیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں میت کو غسل دینے کے بعد دیکھنا جائزہے،تاہم اس بات کا خیال رکھاجائےکہ اگر میت مرد ہو تو غیر محرم عورتیں نہ دیکھیں ،اوراگر میت عورت ہو تو غیرمحرم مردحضرات کے لیے بھی دیکھناشرعاً ناجائزاورحرام ہے ۔

«سنن ابن ماجه» (2/ 454 ت الأرنؤوط):

"عن أنس بن مالك، قال: لما قبض إبراهيم ابن النبي صلى الله عليه وسلم قال لهم النبي صلى الله عليه وسلم: "لا تدرجوه في أكفانه حتى أنظر إليه" فأتاه فانكب عليه وبكى."

(ابواب الجنائز ، باب ما جاء في النظر إلى الميت إذا أدرج في أكفانه ج : 2 ص : 454 ط : دارالرسالۃ العلمیۃ)

الدرمع الرد میں ہے:

"(ويمنع زوجها من غسلها ومسها لا من النظر إليها على الأصح)."

"(قوله ويمنع زوجها إلخ) أشار إلى ما في البحر من أن من شرط الغاسل أن يحل له النظر إلى المغسول فلا يغسل الرجل المرأة وبالعكس."

(کتاب الصلوۃ ، باب صلاۃ الجنازۃ ج : 2 ص : 198 ط : سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144312100590
تاریخ23-07-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں