بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

متعدد زمینوں کا مالک ہرایک زمین کی پیداوار کاالگ الگ عشر دے گا یا سب کے مجموعے کاایک ہی عشر دے گا؟

سوال

 اگر کسی کی تین زمینیں ہوں اور اس نے ایک  زمین  زید کو،ایک  عمرو کو اور ایک  بکر کوکھیتی باڑی کے لیےدےدی ہو  ،اس طورپر کہ پیداوار کا ساتواں حصہ مالک کا اور بقیہ حصص عامل کے ہوں گے،اب زید ،عمرواور بکرمیں سے ہر ایک نے ساتواں حصہ مالک کو دےدیا تو کیا اب مالک ان سب زمینوں کو ملا کر مجموعہ کا عشر نکال سکتا ہے یا ہر ایک کا عشر الگ نکالنا ضروری ہے؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں  مالک تینوں  زمینوں کوملاکر اُن کی مجموعی پیداوار کاعشر نکال سکتاہے،ہر ایک کاعشر الگ نکالناضروری نہیں ہے۔

فتاوٰی ہندیہ  میں ہے:

"ويجب العشر عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - في كل ما تخرجه الأرض من الحنطة والشعير والدخن والأرز، وأصناف الحبوب والبقول والرياحين والأوراد والرطاب وقصب السكر والذريرة والبطيخ والقثاء والخيار والباذنجان والعصفر، وأشباه ذلك مما له ثمرة باقية أو غير باقية قل أو كثر."

(كتاب الزكاة، الباب السادس  في زكاة الزرع والثمار، 186/1، ط:رشيدية)

فقط  واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144312100576
تاریخ23-07-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں