بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رشتہ کے وقت لڑکے کے حال واحوال بیان کرنا غیبت نہیں ہے

سوال

اگر کوئی شخص کسی لڑکے کے بارےمیں پوچھے کہ کیا یہ لڑکا صحیح ہے؟ اس میں کوئی عیب تو نہیں ہے؟ مزاج کیسا ہے؟ وغیرہ وغیرہ ، اس طرح کے سوال عام طور پر رشتے کےوقت پوچھےجاتے ہیں، جس شخص سے پوچھا جارہاہے،کیا اس کےلیے ہر بات صحیح صحیح بتانا ضروری ہے؟ یہ غیبت تو شمار نہیں ہوگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر کسی شخص سے کسی لڑکے کے بارےمیں رشتہ قائم کرنے کی غرض سے معلومات لی جائیں،ا ور لڑکے کے بارے میں سوالات کیے جائیں، تو جس سے پوچھا جارہا ہو، وہ سب صحیح اور حقیقت کے مطابق بیان کرے، بیان کرنے والے کو غیبت کا گناہ نہیں ملے گا۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(وكذا) لا إثم عليه (لو ذكر مساوئ أخيه على وجه الاهتمام لا يكون غيبة إنما الغيبة أن يذكر على وجه الغضب يريد السب) ولو اغتاب أهل قرية فليس بغيبة لأنه لا يريد به كلهم بل بعضهم وهو مجهول خانية فتباح غيبة مجهول ومتظاهر بقبيح ولمصاهرة ولسوء اعتقاد تحذيرا منه.

وفي تنبيه الغافلين للفقيه أبي الليث: الغيبة على أربعة أوجه: في وجه هي كفر.....وفي وجه: هي نفاق.....وفي وجه: هي معصية.........وفي وجه: هي مباح وهو أن يغتاب معلنا بفسقه أو صاحب بدعة وإن اغتاب الفاسق ليحذره الناس يثاب عليه لأنه من النهي عن المنكر اهـ

أقول: والإباحة لا تنافي الوجوب في بعض المواضع الآتية ......... (قوله ولمصاهرة) الأولى التعبير بالمشورة: أي في نكاح وسفر وشركة ومجاورة وإيداع أمانة ونحوها فله أن يذكر ما يعرفه على قصد النصح."

(كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، ج:6، ص:408،409،  ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144312100565
تاریخ23-07-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں