بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بچی کا نام نائلہ اور امارہ رکھنے کا حکم اور اس کا معنی

سوال

بچی کا نام نائلہ اور امّارہ  کیسا ہے اور اس کا معنی کیا ہے ؟

جواب

''نائلہ'' کا معنی ہے: "حاصل کرنے والی"، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی اہلیہ کا نام  نائلہ تھا، لہٰذا نائلہ نام رکھنا درست ہے، اور "اَمَّارہ" کا معنی ہے:  "حکم کرنے والی"، بچی کانام امارہ رکھنا جائز ہے۔ لیکن بہتریہ ہے کہ صحابیات رضی اللہ عہن یا نیک خواتین  میں سے کسی کا نام رکھاجائے۔

تفسیرِ بغوی میں ہے:

"فإن عثمان رضي الله عنه تزوج ‌نائلة بنت فرافصة، وكانت نصرانية فأسلمت تحته."

(سورۃ البقرۃ،ج:1،ص:195،ط:تالیفات اشرفیة)

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144312100529
تاریخ23-07-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں