بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زیر ناف بال کہاں تک کاٹنا ضروری ہیں؟

سوال

 زیر ناف بال کاٹنے کی حد کیا ہے ؟ کہاں تک کاٹنے ضروری ہیں ؟

جواب

 ناف کے  نیچے  پیڑو کی ہڈی ( اگر آدمی اکڑو بیٹھے  تو ناف سے تھوڑا نیچے، جہاں پیٹ میں بل پڑتا ہے )سے لے کر شرم گاہ اور اس کے آس پاس کا حصہ، خصیتین، اسی طرح پاخانہ کے مقام کے آس پاس کاحصہ اور رانوں کا صرف وہ حصہ جہاں نجاست ٹھہرنے یا لگنے کا خطرہ ہو، یہ تمام  زیر ناف بال کاٹنے کی حد ہے۔اسی طرح وہ بال جو دبر کے  قریب ہوں اور ان میں نجاست  رہ جانے کا امکان ہو  انہیں کاٹنا بھی ضروری ہے۔ 

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"ويبتدئ في حلق العانة من تحت السرة، ولو عالج بالنورة في العانة يجوز، كذا في الغرائب".

( کتاب الکراهیة، الباب التاسع عشر في الختان والخصاء وحلق المرأة شعرها ووصلها شعر غيرها ,5/358ط:دار الفكر)

فتاوی شامی میں ہے :

"والعانة: الشعر القريب من فرج الرجل والمرأة، ومثلها شعر الدبر، بل هو أولى بالإزالة؛ لئلايتعلق به شيء من الخارج عند الاستنجاء بالحجر".

( کتاب الحج، فصل في الإحرام و صفة المفرد، (2/481) ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144312100515
تاریخ23-07-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں