عورت کا تکیہ سے شہوت کی تسکین کرنا اور اس سے غسل کا حکم
سوال
کیا عورت تکیہ کو اپنی شرمگاہ پر رگڑ کر سکون حاصل کر سکتی ہیں اور اس عمل سے غسل واجب ہوتا ہے ؟ شفاف پانی نکلنے کی صورت میں کیا غسل واجب ہوتا ہے؟
جواب
مذکورہ عمل گناہ ہے اور اگر شہوت ابھرتے ہوئے سفید پانی نکلے تو وہ قذی (عورت کی مذی) ہے، اس سے غسل واجب نہیں ہوتا اور اگر شہوت ٹوٹتے ہوئے پیلا پانی نکلے تو وہ منی ہے، اس سے غسل لازم ہوگا۔
تبيين الحقائق میں ہے :
"ومني المرأة رقيق أصفر، والمذي رقيق يضرب إلى البياض يمتد، وخروجه عند الملاعبة مع أهله بالشهوة، ويقابله من المرأة القذي."
(كتاب الطهارة، الغسل، موجبات الغسل، ج1 ص17،المطبعة الكبرى الأميرية)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

