بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میت کو فرش پر نہلانا

سوال

کیا میت کو نیچے گھر کی فرش پر نہلا سکتے ہیں؟

جواب

فقہائے کرام ؒنے لکھا ہے کہ جب میت کو غسل دینے کا ارادہ ہوتو اسے کسی تخت یا چارپائی  یا اونچی جگہ پر لٹادیاجائےاور اسی پر غسل دیا جائے۔تاکہ پانی کا بہانااور میت کو کروٹ دینا آسان ہو، کیوں کہ زمین پر غسل دینے کی صورت میں مٹی وغیرہ لگنے کا احتمال موجود ہوتاہے۔اس لیے بغیر کسی مجبوری کے فرش پر غسل دینا صحیح طریقہ نہیں ہے۔البتہ اگر تخت وغیرہ کا انتظام نہ ہو اور مجبوراً میت کو فرش پر غسل دیا جائے اور پانی سہولت سے  الگ بہہ کر چلا جائے تو یہ بھی جائز ہے۔

حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے :

’’...وقيده القدوري بما إذا أرادوا غسله وهو الذي عليه العمل اليوم اه ولا بأس بالتأخير لعارض كما في ابن أميرحاج ، قوله ( على سرير ) هو التخت الذي يغسل عليه فإن لم يوجد فعلى لوح أو حجر مرتفع ليمكن غسله وتقليبه كما في العيني ‘‘۔

(باب  احکام الجنائز، ج:۳،ص:۳۷۲،ط:المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق،مصر)

بدائع الصنائع میں ہے :

’’ويوضع على التخت ؛ لأنه لا يمكن الغسل إلا بالوضع عليه ؛ لأنه لو غسل على الأرض لتلطخ ‘‘۔

(فصل فی بیان کیفیۃ الغسل ، ج:۱،ص:۳۰۰،ط:سعید)

-غسل کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا، مفتی انعام الحق قاسمی، ص:۳۰۲،ط:بیت العمار کراچی

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144312100471
تاریخ23-07-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں