بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دمِ شکر کب ادا کیا جائے؟

سوال

کچھ لوگوں نے مجھے قربانی کے لیے پیسے دیے ہیں ، کیا یہ ضروری ہے کہ ان سے پوچھوں کہ تم لوگوں نے کنکریاں مار لیں،  اس کے بعد قربانی کروں یا بغیر کچھ بھی کر سکتے ہیں ؟

جواب

حجِ  قران اور حجِ تمتع کرنے والوں پر منی یا حدودِ  حرم میں قربانی کرنا ضروری ہوتا ہے اور  یہ قربانی جمرہ عقبہ (یعنی دس ذوالحجہ ) کی رمی کے بعد حلق سے پہلے کرنا ضروری ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں  سائل کو  اگر لوگوں نے قربانی کے لیے پیسے دیے ہیں تو سائل پہلے ان سے پوچھ لے کہ وہ دس ذوالحجہ کو کنکریاں مارنے سے فارغ ہوگئے ہیں یا نہیں؟ اگر فارغ ہوگئے تو تب قربانی کرے،  اگر اس سے پہلے قربانی کرلی تو دم لازم آئے گا۔

غنیۃ الناسک میں ہے:

فاذا فرغ من الرمی یوم النحر انصرف الی رحلہ ویشتغل بشیء آخر فذبح ان شاء ، لانہ مفرد والذبح لہ افضل وانما یجب علی القارن والمتمتع 

(باب مناسک منی یوم النحر، فصل في الذبح و أحکامه، ص: ۱۷۲، ط :ادارۃ القرآن)

البحرا الرائق میں ہے:

اعلم أن ما يفعل في أيام النحر أربعة أشياء الرمي والنحر والحلق والطواف، وهذا الترتيب واجب عند أبي حنيفة ومالك وأحمد. .......وعندهما لا يلزمه شيء بتقديم نسك على نسك للحديث السابق إلا أنه مسيء نص عليه في المبسوط

(کتاب الحج، باب الجنایات جلد:3، ص:26، ط: دار الکتاب الإسلامي)

غنیۃ الناسک میں ہے:

"ولو حلق المفرد أو غیرہ قبل الرمي أو القارن أو المتمتع قبل الذبح أو ذبحا قبل الرمي فعلیه دم عند أبي حنیفة بترك الترتیب."

(کتاب الحج، فصل في ترك الواجب في أفعال الحج ص:۲۸۰، ط: ادارۃ القرآن)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144312100432
تاریخ09-07-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں