بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مشترکہ بنجرزمین کے مالکان پر قربانی کا حکم

سوال

کیا بنجر مشترکہ زمین قربانی کے نصاب میں شامل ہے اس زمین میں بہت سے لوگ شریک ہوں؟

جواب

واضح رہے کہ قربانی  ہر شخص کی اپنی ذاتی ملکیت کے اعتبار سے  واجب ہوتی ہے یعنی قربانی  میں ہر ایک کی اپنی ملکیت کا اعتبار ہے۔صورتِ  مسئولہ میں مشترکہ بنجر زمین میں سےجس شریک کی ملکیت میں  جو زمین ہو گی اگر وہ  بنجر زمین ضرورت میں استعمال نہ ہورہی ہو(مثلاً اس میں رہائش کا گھر بنانے کی نیت نہ ہو) تو اس کی قیمت اگر نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی) تک پہنچے تو ایسی بنجر زمین کے مالک پر قربانی واجب ہوگی اور اگر اس زمین کی قیمت نصاب سے کم ہے اور اس کے علاوہ اتنا سونا یا چاندی یا نقد رقم یا ضرورت سے زائد اشیاء بھی ملکیت میں نہ ہوں جن کی قیمت نصاب تک پہنچتی ہو تو پھر ایسی زمین کے مالک پر قربانی واجب نہیں ہوگی ۔

فتاوی شامی میں ہے :

"وشرائطها: الإسلام والإقامة واليسار الذي يتعلق به) وجوب (صدقة الفطر) (قوله: واليسار إلخ) بأن ملك مائتي درهم أو عرضاً يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه إلى أن يذبح الأضحية، ولو له عقار يستغله فقيل: تلزم لو قيمته نصاباً، وقيل: لو يدخل منه قوت سنة تلزم، وقيل: قوت شهر، فمتى فضل نصاب تلزمه. ولو العقار وقفاً، فإن وجب له في أيامها نصاب تلزم."

(کتاب الاضحیۃ، ج: 6، صفحہ:  312،ط: ایچ، ایم،  سعید) 

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144312100367
تاریخ06-07-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں