بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز جنازہ کی اذان کب دی جاتی ہے؟

سوال

نماز جنازہ کی اذان کب دی جاتی ہے؟

جواب

نماز جنازہ کے لیے اذان نہیں دی جاتی، کیوں کہ نمازِ جنازہ حقیقت میں دعا ہے، جب کہ  اذان پانچ وقت کی نماز کے لیے دی جاتی ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وهو سنة) للرجال في مكان عال (مؤكدة) هي كالواجب في لحوق الإثم (‌للفرائض) الخمس (في وقتها ولو قضاء) لأنه سنة للصلاة.

و في الرد :(قوله: ‌للفرائض الخمس إلخ) دخلت الجمعة بحر، وشمل حالة السفر والحضر والانفراد والجماعة، قال في مواهب الرحمن ونور الإيضاح ولو منفردا أداء أو قضاء سفرا أو حضرا اهـ لكن لا يكره تركه لمصل في بيته في المصر؛ لأن أذان الحي يكفيه كما سيأتي وفي الإمداد أنه يأتي به ندبا وسيأتي تمامه فافهم، ويستثنى ظهر يوم الجمعة في المصر لمعذور وما يقضي من الفوائت في مسجد كما سيذكره.

(كتاب الصلاة، باب الأذان: 1/ 384، ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144312100336
تاریخ06-07-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں